"میں تمہارا جیسیس ہوں، جنم لینے والا۔ میرا رسول، کیا آپ دیکھتی ہیں کہ چھوٹی مچھلی پھولدار درخت سے پالن جمع کر رہی ہے؟ مچھلی بہت سی اور تمام زیارت کنندگان جیسے ہوتے ہیں جو دعا کی جگہ پر آتے ہیں۔ وہ یہاں سے معلومات اور نعمتیں حاصل کرتے ہیں جس قدر ہو سکتی ہیں۔"
"مچھلی کے مانند جو مٹھاس بنانے کے لیے مکھی میں واپس جاتی ہے، زیارت کنندگان گھر واپس آتے ہیں تاکہ پیغام ان کی زندگیوں میں پھل دے۔ مچھلی کو کسی اور ذریعے سے پالن لینا پڑتا نہیں کہ وہ درخت کافی پھول رکھتی ہے جو اسے بار بار سیراب کر سکتی ہے۔ اسی طرح زیارت کنندگان بھی اس ظہور کے مقام پر ہر چیز حاصل کر سکتے ہیں جس کی انہیں ضرورت ہوتی ہے۔"
"یہاں نعمتوں کا غلبہ ہے۔ پیغام وہی پیغام ہے جو سنیا جاتا ہے، کیونکہ یہ ہر پیغام کو گھیرے رکھتی ہے۔ ملکیت یا موجودہ بہت سے ذرائع میں پانی کے استعمال سے زیارت کنندگان ہوش یاب ہو سکتے ہیں۔ انھیں جسماناً شفا مل سکتی ہے یا اپنے صلیب اٹھانے کا نعمت حاصل کرسکتے ہیں۔"
"جیسا کہ ہماری چھوٹی مچھلی اپنی پالن کی منبع سے مکمل طور پر مطمئن ہوتی ہے، وہ زیارت کنندہ جو ماراناتا آتا ہے اپنے ضرورتوں میں متمائن ہو گا۔ میرا ان لوگوں سے کچھ بھی چپا نہیں رکھا جسے آنے والا ہے۔ میں انھیں اپنا دل کا سب سے اندرونی کمرہ پیش کرتا ہوں۔"
"یہ معلوم کرائو۔"